16 ستمبر 2015 - 14:35
جرمنی کی طرف سے پناہ گزینوں کی میزبانی کے پس پردہ عوامل

پناہ گزین کہ جن میں زیادہ تر عراق اور شام کے باشندے ہیں جرمنی کے صدر اعظم آنگلا مرکل کی تصویریں ہاتھ میں لے کر اور پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھا کر نکلتے ہیں جن پر جرمنی کا شکریہ ادا کرنے جیسے جملے دکھائی دیتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آجکل یورپ میں پناہ گزینوں کا مسئلہ دنیا کے ذرائع ابلاغ کی گرما گرم سرخیوں میں ہے۔ جب کہ مجارستان میں پولیس شامی پناہ گزینوں پر اشک آور گیس کے گولے چھوڑتی ہے اور ان کو زد و کوب کرتی ہے اور گرفتار کرتی ہے جرمنی کے مختلف شہروں میں لوگ پناہ گزینوں کا استقبال کرتے ہیں ،اور ان کے لیے تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں اور پانی اور کھانا اور ابتدائی ضرورت کی چیزیں ان کے درمیان تقسیم کرتے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خود یہ پناہ گزین کہ جن میں سے زیادہ تر شام اور عراق کے ہیں جرمنی کے صدر اعظم آنگلا مرکل کے فوٹو اٹھائے ہوئے اور ہاتھوں میں پلے کارڈ لیے ہوئے ہوتے ہیں کہ جن پر جرمنی کے شکریے پر مبنی مضامین لکھے ہوتے ہیں ۔

جرمنی کے حکام کہ جن میں سر فہرست محترمہ آنگلا مرکل ہیں یورپین یونین کے ارکان پر تنقید کرنے اور ان پر الزام لگانے کا کوئی موقعہ نہیں گنواتے کہ انہوں نے اس بحران سے نمٹنے میں تعاون نہیں کیا ہے ۔

اگر اعداد و شمار معلوم ہوں تو جرمنی موجودہ سال کے آخر تک  ۸ سے دس لاکھ تک کی حیرت ناک تعداد میں پناہ گزینوں کو جگہ دے گا ۔

جرمنی کی صدر اعظم کے نائب زیگمار گابریل نے جمعرات کے دن جرمنی کی پارلیمنٹ کے نمایندوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عیسوی سال کے آغاز سے اب تک تقریبا چار لاکھ پچاس ہزار بے گھر ملک میں داخل ہو چکے ہیں کہ جن میں سے ۳۷ ہزار ماہ ستمبر کے پہلے آٹھ دنوں میں داخل ہوئے ہیں ۔

اس میں شک نہیں ہے کہ پناہ گزینوں کا استقبال اور ان کی مدد انسان دوستانہ اور اخلاقی  عمل ہے اور تعریف و تمجید کے لائق ہے ،لیکن اس چیز کو تسلیم کرنا کہ جرمنی اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو جو قبول کر رہا ہے اور ان کے خرچے برداشت کر رہا ہے اور اس کے اجتماعی اور اقتصادی نتائج کو صرف انسان دوستی اور اخلاق کی بنیاد پر تحمل کر رہا ہے جب کہ یورپ نے ابھی تک یونان کے قرضوں کے سلسلے میں اس کے سخت موقف کو فراموش نہیں کیا ہے ،کچھ مشکل معلوم  ہوتا ہے ۔

اس کے علاوہ اور ماضی پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جرمنی نے ۱۹۹۰ کی دہائی میں یوگو سلاویہ میں جنگ اور بد امنی کی وجہ سے بھاگنے والے پناہ گزینوں کے سلسلے میں نہ صرف اخلاقی موقف نہیں اپنایا تھا بلکہ عام لوگوں نے بھی پناہ گزینوں کے استقبال میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی تھی ۔

اس کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ اس بار جرمنی کی حکومت اور عوام کی منفی سوچ پناہ گزینوں کے سلسلے میں کسی حد تک بدل گئی ہے ۔

حقیقت میں اس کی ایک وجہ کہ جرمنی کے عمومی افکار نے پناہ گزینوں کے سلسلے میں اب تک منفی موقف نہیں اختیار نہیں کیا ہے یہ ہے کہ مرکل نے وعدہ کیا ہے کہ ان کی موجودگی سے حکومت پر تازہ مالی بوجھ نہیں پڑے گا اور اس بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں ٹیکس بڑھانے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔

محبوبیت حاصل کرنے کے لیے پناہ گزینوں کو جگہ دینا

موجودہ شواہد منجملہ بحران مہاجرت سے نمٹنے کا طریقہ ،جو حکومت نے اختیار کیا ہے ،اور وسایل کی کمی  کے باوجود پناہ گزینوں کو سہولتیں فراہم  کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ برلین کا شروع سے اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو جگہ دینے کا ارادہ نہیں تھا ،لیکن پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے عام لوگوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے حکمران پارٹی اور محترمہ آنگلا مرکل کہ جو رسک سے بچنے میں مشہور ہے ،اور مشرق وسطی کے پناہ گزینوں کے سلسلے میں اس کے گذشتہ ماہ کے موقف نے درد سر ایجاد کر دیا تھا اس نے عوامی حمایت کی موج پر سوار ہو کر اپنی محبوبیت بڑھانے کے چکر میں اعلان کر دیا کہ شامی پناہ گزینوں کو اجازت ہے، کہ ڈوبلین کے قانون نے جو کچھ مقرر کیا ہے اس کے خلاف وہ جرمنی میں رہیں ۔

نیو نازی اور دائیں بازو کے انتہا پسند گروہ کے اقدامات کے برخلاف ایک نظر سنجی کی بنیاد پر کہ جس کو ڈویجلینڈ ٹرینڈ  ادارےنے جرمنی کے   ٹی وی چینل اے آر ڈی کے لیے انجام دیا ہے  جرمنی کے ۸۸ فیصد لوگوں نے پیسے اور کپڑے پناہ گزینوں کو دیے ہیں یا وہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے پیچھے اقتصادی فائدہ

بعض مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا اعتقاد ہے کہ پناہ گزینوں کو قبول کرنے اور جرمنیوں کی طرف سے ان کی مہمان نوازی کی کھلی سیاست کے پس پردہ ایک طرح کے اقتصادی فائدے کو صاف دیکھا جا سکتا ہے ۔

جرمنی کو آبادی کی قلت اور مقامی انسانی نفوس کی کمی کا سامنا ہے اس لیے اس کو مہاجروں اور ان کے فرزندوں کی لمبی مدت کے لیے ضرورت ہو گی ۔جرمنی میں دو چیزوں کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے ،ایک بے روزگار افراد کی اور دوسری نئے بچوں کے پیدا ہونے کی ،کہ جرمنی میں یہ ریشو دنیا میں سب سے زیادہ نیچے ہے ۔ملک کے حکام کی پریشانی یہ ہے کہ جرمنی کا اقتصادی توازن اور رتبہ اس وقت جب موجودہ افراد بوڑھے اور ریٹائر ہو جائیں گے بگڑ جائے گا ۔

یورپی اعداد و شمار کےکمیشن کی بنیاد پر کہ جس کو موجودہ سال کی ابتدا میں منتشر کیا گیا ہے جرمنی کی آبادی کہ جو سال ۲۰۱۳ میں ۸۱۔۳ میلیون تھی وہ سال ۲۰۶۰ میں گھٹ کر ۷۰۔۸ میلیون رہ جائے گی اس کا طبیعی مطلب یہ ہے کہ کام کرنے والے افراد کی تعداد بھی گھٹے گی ۔نتیجے میں پناہ حاصل کرنے والوں کا ایک سیلاب کہ جو شام اور دوسرے علاقوں کی جانب سے جرمنی کی طرف جاری ہے اور ان میں سے بہت سوں کے اندر ایک نئی زندگی کی شروعات کا جذبہ ہے وہ جرمنی کے لیے مفید ہو سکتے ہیں ۔

جرمنی کے وزیر اقتصاد زیگمار گابریل نے جمعرات کے دن اعلان کیا کہ اس کا ملک بازار کار میں پناہ گزینوں کو جذب کر کے کام کرنے والے افراد کی تعداد میں کمی کی مشکل کو دور کر سکتا ہے ۔

سوشیل ڈیموکریٹ پارٹی سے جرمنی کے گذشتہ صدر اعظم گرھارڈ شروڈرڈ نے بھی گذشتہ ہفتے ایتوار کے دن ایک بہت ہی مقبول روز نامے بیلڈ میں ایک مقالے میں اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ملک کی آبادی تیزی کے ساتھ بوڑھی ہو رہی ہے اور ملک کو جوان کام کرنے والوں کی ضرورت ہے لکھا ہے :مستقبل میں ملک کو اقتصادی اور اجتماعی پوزیشن کی مضبوطی کے لیے مہاجروں کی ضرورت ہے ۔

تاریخی چہرے میں تبدیلی اور عالمی سپر پاور بننے کا خواب ،

جرمنی نے گذشتہ دہائیوں میں اپنی زبان اور ثقافت کو بڑھاوا دینے کے لیے  ایشیاء مشرق وسطی  اور لاتینی امریکہ کے ملکوں کے شہریوں کو تعلیم کا خرچ دیتا ہے اور تربیتی مراکز اور ادارے قائم کرنے پر اس نے بہت بڑا سرمایہ لگایا ہے ۔اگر چہ خود جرمنی والے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کا مقصد اس بھاری سرمایہ گذاری سے صرف خیر خواہانہ ہے،لیکن یہ استدلال واقعیت سے کچھ دور دکھائی دیتا ہے ۔

اس سیاست کے بعض تجزیہ نگاروں کا عقیدہ ہے کہ اس سیاست کا مقصد ملک کے چہرے کو درست کرنا ہے کہ جس نے دوسری عالمگیر جنگ میں بھیانک کردار ادا کیا تھا ۔دوسرے لفظوں میں جرمنی چاہتا ہے کہ اس سیاست کے ذریعے لوگوں کی توجہ ان جرائم سے دوسری طرف موڑے کہ جن کا ارتکاب نازیوں نے دوسری عالمگیر جنگ میں کیا تھا ۔

اس وقت پناہ گزینوں کی ایسی تصویریں نشر کرنا کہ جن کے ہاتھ میں جرمنی کے صدر اعظم کے فوٹو ہیں اور جرمنی زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں اور پوری دنیا میں ان کی ویڈیو تصویریں دکھانا جرمنی کے لیے تبلیغات کا ایک سنہری موقعہ ہے کہ جو اچانک ان کے ہاتھ آ گیا ہے ،یہ ایسی کامیابی ہے کہ جو اس ملک کے اعلی مقاصد کے حصول کی راہ میں مدد گار ہو سکتی ہے ۔

اقتصادی تحقیقات کے ادارے کیل کی پیشین گوئی کی بنیاد پر یورپ کے سب سے بڑے اقتصاد کے عنوان سے جرمنی کی نا خالص پیداوار جو سال ۲۰۱۵ میں ۱۔۸ فیصد ہے وہ سال ۲۰۱۷ میں بڑھ کر ۲۔۳ فیصد ہو جائے گی ۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب یورپ کے بہت سارے ملک منجملہ مجارستان اور بالکان کے علاقے کے ملک شدید اقتصادی بحران سے گذر رہے ہیں ،اور اسی اقتصادی رکود کی وجہ سے شاید وہ پناہ گزینوں کو جگہ نہیں دے رہے ہیں ۔

جرمنی پناہ گزینوں کو قبول کر کے کہ جن کی تعداد دس لاکھ ہے اور جن پر صرف دس ارب ڈالر کا خرچہ ہو نا ہے اپنے سالانہ ۳۰۱ ارب ڈالر کے حکومتی بجٹ سے نہ صرف مستقبل میں اپنی آبادی اور کام کرنے والوں کی تعداد میں کمی کی مشکل کو حل کر لے گا بلکہ دنیا میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر کے بین الاقامی سطح پر سپر پاور بننے کی ضمانت فراہم کر لے گا ۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲